وسطی میانمار میں مسلمانوں پر انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور فسادات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 43 ہوگئي ہے۔ وسطی میانمار میں ہونے والے حالیہ فرقہ وارانہ فسادات میں 1300 سے زیادہ گھروں اور متعدد مسجدوں کو آگ لگادی گئي جبکہ 12 ہزار مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں۔ فسادات کے سلسلے میں اب تک 68 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق رپورٹر سمیت بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پرحملے سوچی سمجھی سازش کے تحت کئے گئے ہیں اور حکومت بھی اس سازش میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ میانمار کے وسطی شہر میکتیلا میں 20 مارچ کو انتہاپسند بدھسٹوں نے کئی مساجد کو نذر آتش کردیا تھا قرآن کریم کو نسخوں کی بے حرمتی کی گئی جس کے بعد فسادات شروع ہوگئے تھے جو بعد میں دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گئے ۔


